جاپان نے تقریباً دو دہائیوں بعد بھارت سے تازہ آموں کی درآمد معطل کر دی ہے۔ جاپانی حکام نے معائنے کے دوران ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ مراکز میں جراثیم کشی اور فومیگیشن کے عمل میں خامیاں پائی ہیں۔ اس فیصلے سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگناپلی سمیت مشہور بھارتی آموں کی برآمد متاثر ہوئی ہے۔ جاپان نے فروٹ فلائی جیسے نقصان دہ کیڑوں کے خطرے کے باعث زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یہ قدم اٹھایا۔